Monday, August 31, 2009

کرا‌چی گرین بس پروجیکٹ
کراچی کی شہری حکومت بجا طور پر تحسین کی مستحق ہے کہ اس نے کراچی کے شہریوں کو آبرومندانہ طریقے سے سفر کی سہولیات مہیا کرنے کےلۓ ابتدائی اقدامات اٹھاۓ۔ اگرچہ ابھی صرف 50 بسیں ہی روڈ پر آئی ہیں لیکن ان کا بےمثال گرم جوشی سے خیرمقدم کیا گیا۔ ان بسوں کی شاندارکامیابی دیکھتے ہوۓ کراچی کے دیگرعلاقوں کے لاتعداد شہریوں نے ناظم کراچی سید مصطفے کمال سے رابطہ کیا اوران سے درخواست کی ہے کہ ان کے علاقوں میںبھی جلد ازجلد گرین بس سروس شروع کی جاۓ۔‎

فی الوقت 25 بسیں سرجانی ٹاؤن تا ٹاورروٹ پر چل رہی ہیں جو اس روٹ کے لحاظ سے بہت کم ہیں۔اس روٹ پرسفرکرنے والے مسافرو‎ں سے بات ہوئی۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کہ یہ بسیں ان کیلۓ ایک نعمت سے کم نہیں۔کراچی کی سڑکوں پر دوڑنے والے بھیانک عفریت اور ان کو چلانے والے وحشی ڈرایئور اور تہذیب و تمدن سے قطعی ناآشنا کنڈیکٹرز سے نجات حاصل کرکے نہایت اطمینان حاصل ہورہا ہے۔ ایک خاتون مسافر کا کہنا تھا کہ کراچی کی بسوں اور ویگنوں میں کنڈیکٹرز اور ڈرایئورزکی بیہودگی اور بدتمیزی ہماری عزت نفس کی موت ہوتی تھی اور یہ سفر جسمانی سے زیادہ ذہنی اذیت کا باعث بنتا تھا۔ خاتون نے ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کا بہت شکریہ ادا کیا اورکراچی کےحق پرست ناظم مصطفے کمال کو دعائیں دیں۔

سروے سے سب سے اہم جو بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ کراچی کے شہریوں کیلۓ سب سے ناگوار چیزکنڈیکٹراور ڈرائورکا رویہ ہے۔ بھاری کرایہ ادا کرنے کے بعد دنیا کی بدترین گاڑیوں میں جانوروں کی طرح سفر کرنا توکسی نہ کسی طرح برداشت کر لیا جاۓ،لیکن ان کی ‌عزت نفس کو جس طرح مجروح کیا جاتاہے یہ قابل برداشت نہیں‌ ہوتا۔

No comments:

Post a Comment